21 جون 2011 - 19:30

کوئٹہ میں پولیس نے اغواء برائے تاوان کے شبے میں جن پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے ان میں سے دو کا تعلق فرنٹئیر کور بلوچستان سے ہے سی سی پی او آفس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئیڈی آئی جی آپریشن حامد شکیل نے میڈیا کو بتایا کہ ان پانچ ملزمان کو مستونگ اور دشت میں اغواء کرنے کے الزام میں گرفتارکیا گیا جن سے پولیس وائرلیس سیٹ بھی برامد ہو ا جوپولیس سبی رینج کو الاٹ کیا گیا ہے ۔

ابنا: ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ حامد شکیل نے بتایا کہ ملزمان نے تفتیش کے دوران اغواء برائے تاوان کی متعدد وارداتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملزمان کے قبضے سے چار پستول ، ایک کلاشنکوف اور پانچ کلو منشیات بھی برامد ہوئی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ پر تشدد سے متعلق پو چھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ دونوں معطل شدہ ایس ایچ اوزکو چارج شیٹ دے دی گئی ہے جبکہ تشدد کاالزام ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ ڈاکٹر باقر شاہ نے پولیس انکوائری کومسترد کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آج صبح کوئٹہ سے ایک خاتون کو اغوا کیا گیا ہے جس کے بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ خاتون کو اس کا والد اپنے ہمراہ لے گیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت